عین جالوت : وہ خوفناک جنگ جس نے منگول مظالم سے عالم اسلام کو بچایا

تاریخ کے اوراق میں سال 1260 ایک فیصلہ کن سال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اس وقت اسلامی دنیا شدید بحران سے گزر رہی تھی اس دوران عین جالوت کی تاریخی جنگ نے پانسہ پلٹ دیا۔

بغداد کا محاصرہ (1258) کے بعد بغداد کھنڈر بن چکا تھا اور عباسی خلافت عملاً ختم ہوچکی تھی، منگول افواج ایران اور عراق کے بعد شام تک پہنچ چکی تھیں اور اب ان کا اگلا ہدف مصر تھا۔

اسی دوران منگول حکمران ہلاکو خان کی جانب سے مصر کے سلطان کو ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا جس میں منگول طاقت کا گھمنڈ اور خوف واضح طور پر جھلک رہا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ منگولوں نے زمین کو لاشوں سے بھر دیا ہے اور کوئی قلعہ یا فوج انہیں نہیں روک سکتی۔

اس نازک موقع پر مصر کے سلطان سیف الدین قطوز نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ روایت کے مطابق انہوں نے منگول سفیروں کو قتل کرا کے ان کے سر قاہرہ کے دروازوں پر لٹکا دیے، جو دراصل منگول طاقت کو کھلا چیلنج تھا۔

سلطان قطز نے اپنی فوج کو منظم کیا اور ایک باصلاحیت سپہ سالار بیبرس کو اہم ذمہ داری سونپی۔ دونوں رہنماؤں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا کہ منگولوں سے رحم کی توقع رکھنا بے معنی ہے، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ دشمن کا سامنا میدان میں کیا جائے گا۔

Battle of Ain Jalut

عین جالوت کا معرکہ

3ستمبر 1260 کو فلسطین کے مقام عین جالوت کی جنگ میں تاریخ کا ایک اہم معرکہ برپا ہوا۔ مملوک فوج نے حکمت عملی کے تحت ابتدا میں پسپائی اختیار کی جسے منگول کمانڈر کٹبوقہ نے حقیقی پسپائی سمجھ لیا۔

منگول فوج جب وادی کے تنگ حصے میں داخل ہوئی تو مملوک فوج نے اچانک تین اطراف سے حملہ کر دیا۔ شدید لڑائی کے بعد منگول فوج کو شکست ہوئی اور ان کا کمانڈر قتل کر دیا گیا۔ اس فتح نے پہلی بار یہ ثابت کر دیا کہ منگول طاقت ناقابلِ شکست نہیں ہے۔

اس جنگ کے نتائج دور رس ثابت ہوئے۔ اس فتح نے نہ صرف مصر بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو منگول تسلط سے بچا لیا۔ مؤرخین کے مطابق اگر اس جنگ میں مملوک شکست کھا جاتے تو مکہ، مدینہ اور دیگر اہم اسلامی مراکز بھی خطرے میں پڑ سکتے تھے۔

falling to Mongols

ہندوستان میں منگولوں کی ناکامی

اسی دور میں برصغیر میں بھی منگولوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی کے سلطان علاؤالدین خلجی نے مضبوط فوج اور سخت معاشی اصلاحات کے ذریعے منگول حملوں کو ناکام بنایا۔ ان کی قیادت میں دہلی سلطنت نے متعدد حملوں کو پسپا کیا اور سرحدی علاقوں کو محفوظ رکھا۔

مؤرخین کے مطابق ان اقدامات کے باعث منگولوں کو یہ احساس ہوگیا کہ ہندوستان پر قبضہ آسان نہیں اور یہی وجہ تھی کہ بعد کے ادوار میں بڑے پیمانے پر منگول حملے کم ہوگئے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/sQXIcTb

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad