ٹوکیو : 1980 کی دہائی میں جاپانی معیشت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت سمجھا جاتا تھا، صنعتی ترقی کے میدان میں اسے اُبھرتے سورج کی حیثیت حاصل ہے۔
اس دور میں دولت کی فراوانی کا یہ عالم تھا کہ ٹوکیو میں واقع شاہی محل کی زمین کی قیمت امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کی مجموعی رئیل اسٹیٹ ویلیو سے بھی زیادہ بتائی جاتی تھی۔
اس زمانے میں دنیا کے10 بڑے بینکوں میں سے 8 جاپان کے تھے جبکہ جاپانی کمپنیوں نے امریکا اور یورپ میں اہم کاروباری اثاثے خرید لیے تھے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جاپانی معیشت جلد ہی عالمی معیشت پر غالب آ جائے گی۔ تاہم محض تین دہائیوں بعد صورتحال یکسر بدل گئی اور جاپان کی معیشت طویل جمود کا شکار ہوگئی۔
سال 1945 میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر جاپان شدید تباہی کا شکار تھا، ایٹم بم حملوں اور مسلسل بمباری کے باعث بڑے شہر تباہ ہوچکے تھے، صنعتی پیداوار تقریباً ختم ہوگئی تھی اور لاکھوں افراد بے گھر تھے۔
تاہم صرف 25 سال کے اندر جاپان نے حیران کن معاشی ترقی حاصل کی اور امریکا کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا، اس جاپانی معیشت معجزے کے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے۔
سب سے اہم عنصر امریکا کی حمایت تھی، جنگ کے بعد امریکا نے جاپان کو سزا دینے کے بجائے اسے ایشیا میں کمیونزم کے خلاف ایک مضبوط اتحادی بنانے کا فیصلہ کیا۔
امریکا نے جاپان کے لیے نیا آئین تشکیل دیا، اس کی معیشت کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دی اور دفاعی ذمہ داری بڑی حد تک خود سنبھال لی، جس کے باعث جاپان اپنی توانائیاں معاشی ترقی پر مرکوز کرسکا۔
1950میں شروع ہونے والی کورین جنگ بھی جاپانی معیشت کے لیے نئے مواقع لے کر آئی، امریکی افواج کو جنگی ساز و سامان، گاڑیوں، کپڑوں اور دیگر سامان کی ضرورت تھی، جس کی بڑی مقدار جاپان سے فراہم کی گئی۔ اس سے جاپان کی بند فیکٹریاں دوبارہ چل پڑیں اور لاکھوں افراد کو روزگار ملا۔
جاپان کی معاشی ترقی میں عوام کی محنت اور نظم و ضبط نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اُس وقت جاپانی معاشرے نے تین بنیادی اصولوں کو اپنایا جن میں سخت محنت، اعلیٰ معیار اور اجتماعی تعاون شامل تھا۔
جاپانی کمپنیوں نے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ نتیجتاً سونی نے دنیا کا پہلا جیب میں رکھنے والا ٹرانزسٹر ریڈیو متعارف کرایا جبکہ ٹويوٹا نے قابلِ اعتماد اور نسبتاً سستی گاڑیاں تیار کیں۔
اسی دوران حکومت، بڑے بینکوں اور صنعتی کمپنیوں کے درمیان قریبی تعاون کو "آئرن ٹرائی اینگل” کہا جاتا تھا۔ حکومت کے ادارے مستقبل کی صنعتوں کا انتخاب کرتے اور انہیں مالی و تکنیکی مدد فراہم کرتے۔ اس حکمت عملی نے جاپان کو تیز رفتار صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔
1955 سے 1973 کے درمیان جاپان کی معیشت اوسطاً 9 فیصد سالانہ کی رفتار سے ترقی کرتی رہی۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس نے دنیا کو ایک جدید اور پراعتماد جاپان دکھایا جبکہ اسی سال دنیا کی پہلی تیز رفتار بُلٹ ٹرین بھی متعارف ہوئی۔
1980 کی دہائی میں جاپان کی معاشی طاقت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ تاہم اسی دور میں معاشی اعتماد حد سے بڑھ کر غرور میں تبدیل ہونے لگا۔
1985میں امریکا اور دیگر بڑی معیشتوں کے درمیان ’پلازا معاہدہ‘ طے پایا جس کے تحت امریکی ڈالر کی قدر کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے نتیجے میں جاپانی ین کی قدر تیزی سے بڑھ گئی جس سے جاپانی برآمدات مہنگی ہوگئیں۔
معاشی سست روی سے بچنے کے لیے جاپان کے مرکزی بینک نے شرحِ سود انتہائی کم کر دی۔ سستے قرضوں کی فراہمی کے باعث سرمایہ بڑی مقدار میں اسٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ میں لگنے لگا، جس سے معاشی بلبلا پیدا ہوگیا۔
1989تک ٹوکیو دنیا کا مہنگا ترین شہر بن چکا تھا اور زمین کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھیں لیکن جب مرکزی بینک نے شرحِ سود دوبارہ بڑھائی تو یہ بلبلا پھٹ گیا۔ اسٹاک مارکیٹ اور جائیداد کی قیمتیں تیزی سے گرگئیں اور ہزاروں کمپنیاں مالی بحران کا شکار ہوگئیں۔
1990کی دہائی کے آغاز سے جاپان کی معیشت طویل جمود کا شکار ہو گئی جسے "گمشدہ دہائیوں” (
لوسٹ ڈیکیٹس) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جمود کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔
ان میں ایک اہم مسئلہ نام نہاد "زومبی کمپنیاں” تھیں حکومت اور بینکوں نے دیوالیہ کمپنیوں کو بند ہونے دینے کے بجائے مالی امداد دے کر زندہ رکھا، جس سے نئی اور اختراعی کمپنیوں کے لیے مواقع محدود ہوگئے۔
دوسری بڑی وجہ مسلسل ڈیفلیشن تھی، یعنی قیمتوں میں کمی۔ جب صارفین کو توقع ہو کہ مستقبل میں قیمتیں مزید کم ہوں گی تو وہ خریداری مؤخر کردیتے ہیں، جس سے معیشت مزید سست ہوجاتی ہے۔
جاپان کی معاشی مشکلات کی سب سے بنیادی وجہ آبادی کا بحران بھی ہے، جاپان دنیا کے تیزی سے بوڑھے ہوتے معاشروں میں شامل ہے جہاں تقریباً 30 فیصد آبادی کی عمر65 برس سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب شرحِ پیدائش انتہائی کم ہوچکی ہے۔ نوجوانوں کی تعداد کم ہونے سے افرادی قوت گھٹ رہی ہے جبکہ بزرگ آبادی کی دیکھ بھال اور پنشن پر اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان کی معاشی کہانی ایک اہم سبق بھی پیش کرتی ہے۔ وہ خصوصیات جنہوں نے جاپان کو کامیابی دلائی، جیسے اجتماعی سوچ، بچت کی عادت اور استحکام کی خواہش، جو بعد ازاں بعض حالات میں معاشی جمود کا سبب بھی بن گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کا تجربہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی ایک تنبیہ ہے کیونکہ اٹلی، جرمنی، جنوبی کوریا اور چین سمیت کئی ممالک کو بھی مستقبل میں آبادی کے اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/gQMLByR