پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی انجری کی حقیقت کے بارے میں اسپورٹس فیزن نے سب بتا دیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسپورٹس فزیشن ڈاکٹر عماد نے بتایا کہ میرا اتفاق ہوا تھا لاہور قلندرز کی اکیڈمی جانے کا جہاں شاہین آفریدی کی فٹنس پر کام ہورہا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ شاہین کی بولنگ اسپیڈ تیز کروائیں گے جب وہ 134 کی رفتار سے گیند کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شاہین 145 کی رفتار سے بولنگ کرے۔
ڈاکٹر عماد کے مطابق انہوں نے کہا کہ شاہین کی بولنگ تیز کرنے کے لیے سائینٹیفک طریقے سے چلنا پڑے گا، تو مجھے کہا گیا کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن ایسا ہوا نہیں۔
یہ پڑھیں: سابق کرکٹر نے شاہین آفریدی کی فارم پر سوال اٹھا دیا
اسپورٹس فزیشن نے کہا کہ جب آپ کسی بولر کی اسپیڈ بڑھانا چاہتے ہیں تو ان کی بھاگنے کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے، اس کے بعد مسلز پر کام ہوتا ہے جب آپ گیند ڈیلیوری کریں تو مسلز سپورٹ کریں، یہی ہوا کہ وہ ایک سال کے بعد پی ایس ایل میں انجری ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ شاہین اس دن کے بعد سے 145 کی رفتار سے گیند نہیں کرسکے، مچل اسٹارک کو دیکھیں وہ مسلسل 145 کی رفتار سے بولنگ کرتے ہیں۔
سابق کرکٹر توصیف احمد نے کہا کہ شاہین کو اس لیے کھلایا گیا کہ آپ کے پاس متبادل کوئی نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کو ضرورت ہے تو چھوٹی موٹی انجری ہو تو آپ کھیل سکتے ہیں لیکن بڑی انجری ہو تو ایسے ری ہیب مکمل کرنا چاہیے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/ZhYFcya