کراچی: سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو گل پلازہ سانحہ پر سندھ حکومت کے افسران کی کارکردگی پر ناراض ہیں اور میئرکراچی مرتضیٰ وہاب بھی انکوائری رپورٹ کے بعد مشکل میں آسکتے ہیں۔
کمشنر کراچی کی رپورٹ کی روشنی میں بڑے افسران کے خلاف ایکشن کا فیصلہ ہو گا۔ گل پلازہ پر پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ پر کمشنر خود عہدے سے ہٹا دیےجائیں گے۔
سانحہ گل پلازہ انکوائری رپورٹ میں اداروں کی غفلت سامنے آئی ہے جس پر کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، چیف فائربریگیڈ افسر کو ہٹایا جائے سکتا ہے۔ ڈی جی ریسکیو 1122 سمیت دیگر متعلقہ افسران کو ہٹایا جائے گا۔
رپورٹ میں فائربریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی ٹیم کے تاخیر سے پہنچنے کا اعتراف کیا گیا ہے جب کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ میں ریسکیو ٹیم کے پاس آلات موجود نہ ہونے کا بھی اعتراف کیا گیا۔
کمشنر کراچی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی ہے۔
ذرائع نے کہا یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے مرتب کی ہے، جو جلد وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، آگ بجھانے کے اقدامات اور ریسکیو آپریشن کی تفصیلات شامل ہیں، جبکہ متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل کی گئی معلومات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی، جبکہ فائر بریگیڈ کو 10 بج کر 26 منٹ پر اطلاع دی گئی، پہلا فائر ٹینڈر 11 منٹ کے اندر 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ساؤتھ رات 10 بج کر 30 منٹ پر گل پلازہ پہنچ گئے تھے، جبکہ ریسکیو 1122 کا عملہ 10 بج کر 53 منٹ پر موقع پر پہنچا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گراؤنڈفلور پر پھولوں کی دکان میں بچے کے ہاتھوں آگ لگی جس کے بعد آگ تیزی سے پھیلی اور ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹس کے ذریعے عمارت کے دیگر حصوں تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 79 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ زیادہ تر اموات میزنین فلور پر ہوئیں۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/V29tJS5