اسلام آباد کے درجنوں اسپتال بنیادی انتظامات سے محروم، لیکن کیوں ؟

اسلام آباد : پمز کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک سانحے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات پر بڑے سوالات اٹھ گئے۔

انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد کے 44 اسپتالوں اور طبی اداروں کو فائر سیفٹی سے متعلق نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں، تاہم متعدد اداروں میں مطلوبہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے شہر کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں کو فائر سیفٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے متعدد بار متنبہ کیا گیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق سی ڈی اے کے اپنے کیپیٹل اسپتال سمیت 44 طبی اداروں کو فائر اینڈ لائف سیفٹی سے متعلق نوٹسز جاری کیے گئے تھے جبکہ پولی کلینک، کیپیٹل اسپتال سمیت 42 نجی و سرکاری اسپتالوں کو بھی پہلے ہی حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات دی جاچکی تھیں۔

کیپیٹل اسپتال کو فائر سیفٹی فٹنس اور ہیزرڈ الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا، ایم سی آئی نے اسپتال کی فائر سیفٹی تیاریوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے فائر پریوینٹو، فائر پروٹیکشن اور لائف سیفٹی آلات کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کیپیٹل اسپتال انتظامیہ کو فائر سیفٹی آڈٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کے ساتھ لازمی فٹنس سرٹیفکیٹ اور این او سی حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

ایم سی آئی کے مطابق اسپتال انتظامیہ کو 2014 سے 2023 تک فائر سیفٹی آڈٹ کے حوالے سے متعدد بار آگاہ کیا گیا۔ فائر سیفٹی پلانز کی منظوری اور تکمیل کا فائر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا تھا۔

ہدایت کی گئی تھی کہ فائر سیفٹی پلانز پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) سے منظور شدہ ایم ای پی کنسلٹنٹ سے ویٹ کرائے جائیں جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ماہرین اور پی ای سی رجسٹرڈ کنٹریکٹرز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔

کیپیٹل اسپتال میں باقاعدگی سے فائر ڈرلز اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں کرانے کا حکم بھی دیا گیا تھا، جبکہ انتظامیہ کو تین ماہ کے اندر تمام ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تاہم ایم سی آئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بارہا انتباہ کے باوجود فائر سیفٹی انتظامات پر مکمل عمل درآمد نہ ہوسکا۔

پمز کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والے یہ انکشافات اسلام آباد کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے موجودہ نظام، حفاظتی معیارات پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے مؤثر ہونے پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاق کے زیرانتظام پمزاسپتال کے نرسری وارڈ میں خوفناک آتشزدگی سے 14 نومولود جاں بحق پوگئے۔ اپنے بچوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر والدین غم سے نڈھال ہیں۔

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق

ایک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے سے پہلے ہی نرسری وارڈ پر تالے لگے ہوئے تھے، ڈاکٹرز اور عملہ بھی موجود نہیں تھا، صرف بچے جلے لیکن عملے کے کسی ملازم کو کچھ نہیں ہوا، اسپتال کی بھی ہر چیز ٹھیک ہے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/Q1ad2t9
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad