ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ کے پہلے 2 ہفتوں میں امریکا نے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی، بعض ممالک نے خود سے ثالثی اور مذاکرات کی پیشکش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، 12 روزہ جنگ کی طرح نہیں چاہتے جو جنگ بندی پر تمام ہوئی اور کچھ ماہ بعد دوبارہ شروع ہو گئی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم اس بار جنگ بندی کےمخالف ہیں جنگ اس طرح ختم ہوکہ دوبارہ شروع نہ ہو۔
فالس فلیگ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم مسرور بارزانی کے دفتر پر ہونے والے اس حملے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
عراقی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ حملہ ایرانی سرزمین سے کیا گیا ہو۔
انہوں نے کرد دوستوں کو خبردار کیا کہ فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے پڑوسی ممالک کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی سازش کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران نے ماضی میں کرد دوستوں کو صدام اور داعش کے خطرات سے محفوظ رکھا، اور ایران اس بات کا شکرگزار ہے کہ کرد ہماری سرحدوں پر سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کے روز عراق کے کردستان علاقے کے وزیراعظم مسرور بارزانی اور انٹیلی جنس چیف کے گھر پر ڈرون حملے کیے گئے تھے، تاہم خوش قسمتی سے ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/PxywEr4