سگریٹ نوشی میں خطرے کا اصل نقطۂ آغاز

سرطان شاذ و نادر ہی اچانک ظاہر ہوتا ہے۔ یہ خاموشی سے اور وقت کے ساتھ بڑھتا رہتاہے اور ،اکثر صورتوں میں، بغیر کسی واضح علامات کے نشوونما پاتا ہے۔ چنانچہ جب اس کی تشخیص ہوتی ہے تب تک یہ بہت پھیل چکا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں، اب بھی یہ مرض موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے، اور تقریباً ہر چھ میں سے ایک شخص کی موت کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان میں اس بیماری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں، ہر سال سرطان کے 180,000 سے زائد واقعات سامنے آتے ہیں جن میں سے 118,000 سے زائد واقعات میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ دیر سے تشخیص، علاج تک محدود رسائی، اور نظامِ صحت میں موجود خلا یہ سب اِس رجحان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

اس وسیع تناظر میں، پھیپھڑوں کا سرطان نمایاں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 22,000 نئے واقعات سامنے آتے ہیں، جبکہ 19,000واقعات میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ اموات کی یہ بلند شرح اسے ملک میں سرطان کی سب سے مہلک قسم بناتی ہے۔ یہ مرض مردوں میں خاص طور پر پایا جاتا ہے اور دیر سے تشخیص کے باعث اس میں بقا کی شرح کم ہے۔

اس کی بنیادی وجہ واضح ہے یعنی تمباکو نوشی اس مہلک کا مرکزی سبب ہے۔ تمباکو نوشی کے اس قدر نقصان دہ ہونے کی وجہ صرف تمباکو یا اس میں پائی جانے والی نکوٹین نہیں، بلکہ تمباکو کو جلانے کا عمل ہے۔ جب سگریٹ جلائی جاتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والا دھواں مختلف کیمیائی مرکبات کے ایک پیچیدہ امتزاج پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سے اکثر نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہ مادے جلنے کے عمل کے دوران بنتے ہیں اور غیر جلی ہوئی حالت میں پائے نہیں ہوتے۔

نکوٹین اپنی لت لگانے والی خاصیت کی وجہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی جاری رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ تاہم، ایسی بیماریاں جو عام طور پر تمباکو نوشی سے منسلک قرار دی جاتی ہیں یعنی پھیپھڑوں کا سرطان، دل کی بیماریاں، اور خون کی نالیوں کو پہنچنے والا نقصان وغیرہ زیادہ تر اُن زہریلے مادوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جو جلنے کے عمل سے بنتے ہیں۔ یہ کیمیائی اجزاء خُلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں، سوزش میں اضافہ کرتے ہیں، اور وقت کے ساتھ سرطان کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔

صحت کے عالمی اداروں کے اندازوں کے مطابق پھیپھڑوں کے سرطان سے ہونے والی اموات کی بڑی اکثریت تمباکو نوشی کی وجہ سے ہے، اور یہ رجحان پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی یکساں طور پر دیکھا جاتا ہے۔

عوامی صحت کی کوششیں طویل عرصے سے تمباکو نوشی کی روک تھام اور لوگوں کو اسے ترک کرنے کی ترغیب دینے پر مرکوز رہی ہیں اوریہ اب بھی نہایت اہم ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنا خطرے کو کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہےلیکن یہ آسان نہیں ہے۔ بہت سے افراد متعدد بار کوشش کرنے کے باوجود اسے دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا اکثر آگاہی میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ لت کی وجہ سے ہوتا ہے۔پاکستان میں تمباکو نوشی چھوڑنے میں منظم طور پر مدد فراہم کرنے والی سہولیات تک رسائی بھی محدود ہے، جس سے یہ چیلنج مزید دشوار ہو جاتا ہے۔

یہ صورتحال پالیسی میں ایک خُلا کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اگرچہ تمباکو نوشی ترک کرنا ہی ہدف ہے، مگر یہ ہر شخص کے لیے فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سے افراد خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں یعنی وہ نقصان دہ دھوئیں کا سامنا کرتے رہتےہیں۔

تاہم، اس سے تمباکو نوشی ترک کرنے کی اہمیت کم نہیں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، یہ اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ اصل نقصان کہاں سے شروع ہوتا ہےیعنی جلنے کے عمل سے پیدا ہونے والے زہریلے مادوں سے بار بار واسطہ پڑنا۔

یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ سگریٹ اس خطرے کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر شیشہ کا استعمال بھی تمباکو کو جلانے پر مشتمل ہوتا ہے اور اس سے بھی اسی طرح کے نقصان دہ ضمنی کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں۔ بنیادی طریقۂ کار وہی رہتا ہے یعنی جلنے کا عمل جو ایسے مادے پیدا کرتا ہے جو جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان میں پھیپھڑوں کے سرطان کے واقعات کا ایک بڑا حصہ تمباکو کے استعمال سے منسلک ہے، اگرچہ فضائی آلودگی اور کام کرنے کی جگہ پر اس سے واسطہ پڑنا جیسے دیگر عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تمام خطرات مل کر مجموعی صورت حال کو اور بھی دشوار بن دیتےہیں۔ زیادہ تر تمباکو نوش افرادپہلے سے ہی جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی نقصان دہ ہے۔ اصل چیلنج اس آگاہی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لت کی وجہ سے اسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے، اور مسلسل تمباکو نوشی جسم کو وقت کے ساتھ نقصان دہ مادوں کے اثر میں رکھتی ہے۔

پاکستان میں پھیپھڑوں کے سرطان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے صرف انتباہات کو دوہرانا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے اس بات کو زیادہ اورواضح طور پر سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نقصان کیسے پیدا ہوتا ہے، اور ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو سائنسی شواہد اور تمباکو نوشی کرنے والوں کو درپیش حقیقی حالات دونوں کی عکاسی کریں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/hsbCc8Z
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad