افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں شدید مشکلات درپیش ہیں جہاں اس بیماری کے 900 سے زیادہ مشتبہ مریض سامنے آچکے ہیں جن میں 220 اموات کی اطلاعات ہیں۔
ملک میں اس وائرس کی بنڈی بگیو قسم کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے جسے ‘ڈبلیو ایچ او’ عالمی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے چکا ہے۔ وبا اس رفتار سے پھیل رہی ہے کہ طبی عملے کے لیے اس سے نمٹنا آسان نہیں رہا۔
رپورٹ کے مطابق ایبولا کی تیزی سے پھیلتی وبا نے کانگو میں عالمی ادارۂ صحت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی کوششوں کو بھی ناکام کردیا ہے جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لیے افریقہ کے مراکز کے اجلاس سے متعلق دستاویزات اور عالمی صحت حکام کے بیانات کے مطابق وبا کئی ہفتوں تک بغیر تشخیص کے پھیلتی رہی، جس کے باعث ہزاروں افراد وائرس کے خطرے سے دوچار ہوچکے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایبولا وائرس سے اب تک 220 ہلاکتیں اور تقریباً 900 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ وائرس ہمسایہ ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ چکا ہے جہاں اب تک 7 کیسز سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وائرس کے خلاف نہ تو کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی علاج، جس کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مقامی سطح پر طبی سامان کی کمی، عوام کی عدم اعتمادی اور طبی مراکز پر حملے وبا پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
مشرقی کانگو میں مشتعل افراد نے اسپتالوں اور آئسولیشن خیموں پر حملے کیے اور متاثرہ افراد کی لاشیں واپس لے جانے کی کوشش کی، جس سے وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا۔
ماہرین نے عالمی فنڈنگ میں کمی اور امریکا کے عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کو بھی بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ایبولا وائرس متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں، آلودہ اشیا اور لاشوں کے ذریعے پھیلتا ہے، جبکہ مریض کے رابطے میں آنے والے افراد کو 21 روز تک نگرانی میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/2v75hgl