واشنگٹن (25 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران میں نئی قیادت آئی ہے جسے رجیم چینج کہہ سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے آپریشن میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر دیا جو مسائل پیدا کرتی تھی، اب نیا گروپ آیا ہے دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے، مذاکرات وہیں سے شروع کریں گے کہ تہران کے پاس ایٹمی صلاحیت اور یورینیم افزودگی ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے مذاکرات کیلیے سخت مؤقف اپنا لیا، ممکنہ مطالبات سامنے آگئے
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہم نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے، اس کے پاس اب نیوی، فضائیہ اور کوئی قیادت نہیں ہے، یہاں تک کہ بات کرنے کیلیے بھی کوئی نہیں بچا، ہمیں معلوم نہیں کہ ایران میں کس سے بات کریں لیکن ہم اب درست افراد سے بات کر رہے ہیں۔
’ایران میں ہم جن سے بات کر رہے ہیں وہ ڈیل چاہتے ہیں، دیکھتے ہیں ڈیل سے متعلق اب کیا بنتا ہے۔ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، مارکو روبیو اور جے ڈی وینس اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں، مذاکرات جاری ہیں اور تہران ڈیل چاہتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں سب کچھ تباہ ہوگیا ہے کوئی ایک چیز بتا دیں جو بچی ہے، ایران میں ہم کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں کوئی روکنے والا نہیں۔
اس دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران پر بمباری جاری رہے گی؟ اس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ تہران ہم سے سمجھداری سے بات کر رہا ہے، بس ہم یہی کہتے ہیں ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت نہیں ہونی چاہیے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/63vUEm2