صدر ٹرمپ کی پالیسی پر یورپ میں اختلافات سامنے آگئے۔
جرمنی کی روسی تیل پر پابندیاں نرم کرنے پر امریکا پر تنقید کی جارہی ہے اور یوکرین جنگ کے دوران پابندیاں کم کرنا خطرناک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ امریکا کا فیصلہ غلط ہے پابندیاں نرم کرنا مناسب نہیں، روس کو جنگ کے لیے مزید فنڈز مل سکتے ہیں اور یورپی رہنما روس کو ایران جنگ کا فائدہ اٹھانے سے روکنا چاہتے ہیں۔
جرمن وزیر معیشت کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں نرم کرنے سے پوٹن کی جنگی طاقت بڑھ سکتی ہے۔
امریکا نے مزید ممالک کو 30 دن تک روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی،جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
امریکا نے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مزید کئی ممالک کو روسی تیل خریدنے کی عارضی اجازت دے دی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی جانب سے بتایا گیا امریکا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے لیے مزید 30 دن کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت روسی تیل 11 اپریل تک فروخت کیا جا سکے گا، جس کا مقصد سپلائی میں کمی کے خدشات کو دور کرنا ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/T7i4qrh