گل پلازہ سانحہ کے بعد فائر سیفٹی قوانین سخت، نئی شرائط فوری لاگو

کراچی : گل پلازہ سانحہ کے بعد عمارتوں میں فائر سیفٹی اور بلڈنگ کمپلائنس کو مضبوط بنانے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2022 میں اہم ترامیم نافذ کر دی ہیں۔

ایس بی سی اے کے مطابق نئی ترامیم فوری طور پر پورے صوبے میں قابلِ عمل ہوں گی اور ان کا اطلاق نہ صرف نئے منصوبوں بلکہ پہلے سے جمع کیسز پر بھی ہوگا۔

ترامیم کے تحت ہر نئے پروجیکٹ میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے لیے مجموعی پارکنگ کے علاوہ 16 فیصد اضافی جگہ مختص کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ وزیٹر پارکنگ بھی علیحدہ فراہم کرنا ہوگی۔

ہنگامی حالات میں ریسکیو گاڑیوں کی رسائی یقینی بنانے کے لیے بھی نئی شرط عائد کی گئی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اب پورے سندھ میں نئے اور رینیول لائسنس صرف ایس بی سی اے ہیڈ کوارٹرز سے جاری ہوں گے۔

عوامی، صنعتی اور رفاہی منصوبوں میں آگ بجھانے کے لیے زیر زمین اور اوور ہیڈ واٹر ٹینکس لازمی ہوں گے، جبکہ پانی کا ذخیرہ عمارت کے ڈیزائن کا مستقل حصہ بنایا جائے گا۔

مزید برآں فائر سیفٹی کی ایم ای پی ڈرائنگز فائنل کنسٹرکشن سے قبل جمع کرانا ضروری ہوگا۔

کمرشل اور انڈسٹریل عمارتوں کے لیے سول ڈیفنس اور فائر ڈیپارٹمنٹ سے این او سی لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ این او سی کے بغیر کمپلیشن پلان منظور نہیں ہوگا اور نہ ہی کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

ریٹیل اور کمرشل عمارتوں کے اندرونی فائر سیفٹی معیارات بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ہر دکان میں کم از کم ایک فائر ایکسٹنگوئشر نصب کرنا ہوگا، جبکہ ڈپارٹمنٹل اسٹورز میں ہر 400 مربع فٹ پر ایک فائر ایکسٹنگوئشر رکھنا لازمی ہوگا۔

نئے قواعد کے مطابق حتمی تعمیراتی اجازت سے پہلے تصدیق شدہ مکینیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ ڈرائنگز جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق ان ترامیم کا بنیادی مقصد فائر سیفٹی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا اور عمارتوں کی نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے۔

گل پلازہ کو دوبارہ تعمیر کرکے دم لیں گے، وزیراعلیٰ سندھ



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/lZgpqP7
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad