فضائی آپریشن سے متعلق غلط اعداد و شمار اور مینٹیننس کے حوالے سے گمراہ کن خبروں پر ترجمان پی آئی اے کا رد عمل آگیا۔
ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ گزشتہ دو روز سے انتہائی احتیاط اور ضبط سے کام لیتے ہوئے بے مقصد بیان بازی سے گریز کررہی تھی مگر نام نہاد انجینئرنگ سوسائٹی کی جانب سے غلط اعداد و شمار اور حقائق سے منافی جاری کردہ اعلامیہ اور اسکی میڈیا کوریج، بین الاقوامی فورمز پہ بے وجہ توجہ دلانے کی مذموم کوشش ہے، ذاتی مفادات کی خاطر پوری ملکی ہوابازی کی ساخت کو داو پہ لگانا اس امر کا عکاس ہے کہ یہ عناصر کسی کے خیر خواہ نہیں اور نا ہی پیشہ ورانہ رویہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فضائی حفاظت کا ذمہ دار ادارہ پاکستان سول ایوایشن اتھارٹی ہے جو بین الاقوامی مروجہ سخت ترین ضوابط کے تحت تمام ائیرلائنز بشمول پی ائی اے کو ریگولیٹ کرتا ہے، پرزوں کا استعمال، ان کی تبدیلی، جہازوں کی پرواز سے متعلق فٹنس اور پروازوں کے روٹس، اوقات کار یا اس میں تبدیلی جیسے تمام امور سول ایوایشن کے پیش نظر ہوتے ہیں اور ان کی منظوری کے بعد کئے جاتے ہیں یہ طریقہ کار بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے اور پاکستانی ہوابازی اس ہی امر کے لا تعداد آڈٹس کے بعد یورپ اور برطانیہ کی براہ راست پروازویں شروع کرنے کے قابل ہوئی ہے۔
ترجمان کے مطابق جو خدشات بین الاقوامی ہوابازی اداروں کو نہیں ہیں، وہ 6 مہینے میں دوسری بار تنخواہیں بڑھوانے اور نجکاری کو روکنے سے سرشار سوسائیٹی کے خود ساختہ انجنئرز اپنے بیانیہ کو تقویت دینے کیلئے بنا رہے ہیں، مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ سوسائیٹی کے خود ساختہ صدر و جنرل سیکرٹری کوئی ایسی تعلیمی قابلیت نہیں رکھتے ہیں جو کے پاکستان انجنئرنگ کونسل سے تصدیق شدہ ہو اور نا ہی خود جہازوں پر کام کرنے کے اہل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور ذاتی مقاصد کی خاطر جھوٹے بیانیہ گھڑ کر، پاکستان کے قومی ادارے کی ساخت مجروح کرنے سے ناصرف نجکاری کیلئے اس کی قدر کم ہوگی بلکہ بین الاقوامی طور پر پی آئی اے کو واپس منافع میں لانے اور نیٹ ورک کو وسعت دینے کی پذیرائی کو روکنے کی سازش ہے، گزشتہ دو روز سے پی آئی اے کی کوئی پرواز انجینئرنگ کی ہڑتال کی باعث منسوخ نہیں ہوئی، جو ہوئیں یا وہ شیڈول کو ٹھیک کرنے، موسم یا دیگر اپریشنل وجوہات کے باعث ہوئیں، جہاز کی ونڈ سکرین سے متعلق غلط بیانیہ بنا کر انتظامیہ کو بدنام کرنی کی کوشش کی گئی مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ جہاز کی ونڈ سکرین 3 مضبوط ترین سطحوں میں ہوتی ہے اور صرف اندرونی سطح کریک ہوئی جس سے پرواز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔
ترجمان کے مطابق صرف رواں سال میں اس ہی نوعیت کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں سنگاپور آئیرلائن، امریکن ائیرلائن اور ورجن شامل ہیں اور ان کا آڈر اور تبدیلی عام نوعیت کا واقعہ ہے، ونڈ سکرین بوئینگ کے پاس سے صرف ٹوٹنے کی صورت میں آڈر ہوتی ہے اور اس کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے اور یہ ہوابازی کی صنعت میں عام فہم بات ہے، اسپیڈ یا اسٹیل ٹیپ کا استعمال ونڈ سکرین دوبارہ لگانے کے بعد اس کے کیورنگ یا اس کو سکھانے کیلئے استعمال کی گئی مگر اسکی تصویریں میڈیا کو دے کر یہ تاثر بنایا گیا کہ ٹیپ کے ساتھ ونڈ سکرین جوڑ کر پروازیں آپریٹ کی جارہی ہیں۔
پی ائی اے انتظامیہ انتہائی تحمل اور ضبط سے کام لے رہی اور ابھی تک کسی انجنئر کے خلاف کوئی انتظامی یا انتقامی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
صدر اور جنرل سیکرٹری سیب کی ملازمت سے برخاستگی گزشتہ 4 ماہ سے جاری انتظامی کاروائی کا نتیجہ ہے جس میں ان کو بار بار اپنے موقف کو ثابت کرنے اور اپنے دفاع میں دلائل دینے کا موقع دیا گیا مگر انہوں نے سیاسی اثر و رسوخ یا اپنی تنظیم کا سہارا لینے کو ترجیح دی
ملازمت سے برخاستگی کے بعد وہ اپنی سوسائٹی کے اپنے آئین کے مطابق صدر اور جنرل سیکرٹری بھی نہیں رہے اور ان کی بیان بازی دفعہ 124A کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔
پی ائی اے انتظامیہ قانونی کاروائی کا حق رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے، انکو اکسانے والوں اور ان کی ترویج کرنے والوں کے خلاف جاری جوئی کرے گی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/ZpshjXl