وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی شکست اور ذلت کا بدلہ کابل کے ذریعے لینا چاہتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کابل نے جو پتلی تماشہ لگایا ہے وہ دہلی سے کنٹرول ہورہا تھا، مذاکرات کا اختیار کابل حکومت کے پاس نہیں ہے، بھارت نے کابل کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ شروع کررکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکموت کا کنٹرول پورے افغانستان پر نہیں ہے، مجھے ان باتوں کا اندازہ مذاکرات کی پہلی نشست میں ہوگیا تھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ قطر اور ترکیہ جیسے دوست ممالک افغانستان کے معاملے پر پاکستانی مؤقف کے قریب ہیں۔
یہ پڑھیں: طالبان کے فیصلے اس وقت دلی سے اسپانسر ہورہے ہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان وفد پانچ دفعہ یقین دہانیاں کروانے کے بعد پیچھے ہٹ گیا، اگر اسلام آباد کی طرف کسی نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کابل کسی کا چمچہ نہ بنے، عزت دار ہمسائے کی طرح رہے، 40 سال ہمارے مہمان رہے پھر بھی کابل کی نگاہوں میں شرم نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ماضی کے جن حکمرانوں نے طالبان کی حمایت کی ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/806Xord