والد نے طیارہ حادثے سے چند ماہ قبل شہادت کی دعا کرنا شروع کردی تھی، بیٹا جنید جمشید

مرحوم جنید جمشید کے بیٹے سیف اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ والد نے طیارہ حادثے سے چند ماہ قبل شہادت کی دعا کرنا شروع کردی تھی۔

جنید جمشید نے پاپ میوزک کے ذریعے شہرت حاصل کی بعد ازاں انہوں نے موسیقی کو خیرباد کہہ دیا اور بطور نعت خواں اور اسلامی مبلغ اپنا سفر جاری رکھا۔ وہ ایک بہت کامیاب بزنس مین بھی تھے۔ جنید جمشید دسمبر 2016 میں طیارہ کے المناک حادثے میں انتقال کر گئے وہ اپنی بیوہ، تین بیٹے تیمور، بابر اور سیف اللہ اور ایک بیٹی چھوڑ گئے۔

حال ہی میں ان کے چھوٹے بیٹے سیف اللہ جنید جمشید نے نجی ٹی وی کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی اور والد کی یادیں شیئر کیں۔

جب جنید جمشید کے طیارے کے حادثے کی خبر سننے کے بارے میں پوچھا گیا تو سیف اللہ نے بتایا کہ پچھلے چھ آٹھ ماہ سے والد میری والدہ سے کہہ رہے تھے کہ عائشہ مجھے شہادت چاہیے، یہ مہینوں سے ان کی مسلسل دعا تھی اور لگتا ہے کہ اللہ نے انہیں وہی عطا کیا جس کی وہ خواہش رکھتے تھے کیونکہ ہم نے انہیں بیمار نہیں دیکھا تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ خوش اور نارمل تھے۔

یہ پڑھیں: جنید جمشید کے چترال جانے سے قبل کیا جذبات تھے؟ اہلیہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں

والد کی آخری نصیحت کو یاد کرتے ہوئے سیف اللہ نے کہا کہ ’’جو مجھے سب سے زیادہ یاد ہے وہ میرے لیے ان کی آخری نصیحت ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے کاروبار میں کامیابی بھی نہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ تم دین میں آگے بڑھو’۔

سیف اللہ نے کہا کہ "ان کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ ہے جو میری والدہ نے مجھے بتایا کہ جب میں چھوٹا تھا تو انہوں نے مجھے اپنے میوزک کے وقت کی ایک تصویر دکھائی اور پوچھا کہ تصویر میں موجود شخص کون ہے، میں نے جواب دیا کہ ‘یہ چچا ہیں۔’ وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ میں ان کی جوانی کو پہچان نہیں سکا۔

انہوں نے کہا کہ 2016 میں والد کے انتقال سے قبل ہمارے خاندان کا حج کا سفر خوبصورت یاد ہے۔ ہم سب ایک ساتھ تھے ایک ہی کمرے میں رہے تھے۔ ہم نے بہت اچھا اور خوبصورت وقت گزارا۔ میں اب بھی اسے اپنا بہترین وقت سمجھتا ہوں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/ujyHNc0
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad