عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے والے برصغیر کے معروف شاعر فیض احمد فیض نے شہرہ آفاق نظم ‘ہم دیکھیں گے’ کیوں لکھی اس کی وجہ سامنے آگئی۔
پاکستان کے چند محبوب ترین شعرا میں سے ایک فیض احمد فیض جن کی نظموں اور غزلوں نے ایک دنیا کو اپنا دیوانہ بنایا، فیض کی ایک خوش کن اور دل آویز نظم ‘ہم دیکھیں گے’ اب بھی زبان زد عام ہے، ان کے نواسے عدیل ہاشمی نے نجی چینل کے پروگرام میں نظم کی پس پردہ کہانی بیان کی ہے کہ یہ کس طرح لکھی گئی۔
شو کے دوران میزبان نے عدیل ہاشمی سے سوال کیا کہ نظم ‘ہم دیکھیں گے’ کے پیچھے پوری ایک کہانی ہے فیض صاحب نے پاکستان کے بجائے کہیں اور لکھی اور وہ ہم تک یہاں پہنچ گئی۔
عدیل ہاشمی نے بتایا کہ 1979 میں جب ایران میں انقلاب آیا تو اس چیز نے فیض صاحب کو بہت متاثر کیا، اس وقت وہ جلاوطن تھے کیوں کہ پاکستان میں ضیاالحق کا دور تھا اور فیض صاحب پر پاکستان آنے پر پابندی تھی۔
اس وقت فیض احمد فیض نے یہ نظم لکھی تھی کہ ‘ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے’، اب تو یہ پوری دنیا کا ترانہ بن چکا ہے۔
سلیمہ ہاشمی کے صاحبزادے عدیل ہاشمی کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی اس نظم کو بہت پذیرائی ملی اور حال ہی میں بھارت کی ایک ریاست میں قانون پاس ہوا ہے کہ اگر کسی نے یہ نظم گائی تو اسے اندر کردیں گے۔
عدیل ہاشمی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ فیض صاحب نے ‘ہم دیکھیں گے’ اسے کاغذ پر لکھا بس کیوں کہ وہ صوفی آدمی تھے اور پروا نہیں کرتے تھے، انھوں نے اپنے ایک دوست کو دیا کہ پاکستان جارہے ہو اس کی کچھ کاپیاں کراوکر دوستوں میں بانٹ دینا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ شخص حمید اختر صاحب تھے یعنی صبا حمید کے والد، وہ بھی بہت باکمال آدمی تھے، حمید صاحب وہ کاغذ لےآئے اور انھوں نے اس کی کچھ کاپیاں کراکر دوستوں میں بانٹ دیں۔
اس کے بعد فیض صاحب کو تین سال بعد پاکستان آنے کا موقع ملا اور انتقال سے ایک ماہ قبل ان کا دیوان ‘نسخہ وفا’ چھپا، تاہم پبلشر نے شرط یہ رکھی کہ مذکورہ نظم اس میں شائع نہیں ہوسکتی ورنہ میرے لیے بہت مشکل ہوگا۔
عدیل ہاشمی نے بتایا کہ پبلشر کی مجبوری سننے کے بعد فیض صاحب نے کہا کہ بھئی نہ شائع کرو پھر یہ نظم، فیض احمد فیض نے اپنی زندگی میں یہ نظم شائع ہوتے نہیں دیکھی۔
انھوں نے بتایا کہ فیض کے انتقال کے بعد اقبال بانو نے یہ نظم گائی، اس کے بعد یہ نظم زبان زدعام ہوگئی اور دنیا میں یہ ایک ترانہ بن گیا اور پھر وہ پوری دنیا میں گونجا۔
عدیل ہاشمی نے انکشاف کیا کہ یہ نظم دنیا بھر میں مشہور ہوئی اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ، سورۃ رحمٰن کی جو آیتیں ہیں فیض صاحب کو وہاں سے یہ باتیں آئی تھیں اور اس نظم کا عنوان بھی ‘ہم دیکھیں گے’ نہیں بلکہ سورۃ رحمٰن کی ایک آیات ہے۔
فیض احمد فیض کے نواسے کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے یہ نظم ایسا دل میں اترتی ہے آکر کہ بس ابھی بھی میرے رنگٹے کھڑے ہوگئے ہیں صرف اس کا سوچ کر، جو شاعری ہوتی ہے اسے کوئی غاصب روک نہیں سکتا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/9zduHvJ