حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ہماری درخواست پر انصار اللہ ’آبنائے باب المندب‘ بند کرنے کے لیے تیار ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ شدید دباؤ پر انصار اللہ باب المندب بند کرکے چابی مزاحمتی محاذ کو دینے کو تیار ہے، مزاحمتی محاذ نے صبر کا مظاہرہ کرنے اور سیاسی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حزب اللہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد مکمل آزادی اور لبنانی سرزمین سے قابض افواج کا انخلاف ہے۔
اسرائیل کی پیش قدمی کا جواب زمینی صورت حال اور پیش رفت کے مطابق دیا جائے گا، مزاحمتی محاذ بدستور طاقتور ہے، فوری ردعمل نہ دینے کا مطلب کمزوری نہیں ہے۔
چند روز قبل ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ اپنا مسلسل رابطہ قائم رہنے کا اعتراف کیا ہے۔
قاليباف نے ہفتے کے روز ایرانی دانش وروں کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران کہا کہ وہ 1985 سے لبنان سے متعلق امور سے منسلک ہیں۔ انھوں نے حزب اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا لبنان کے ہر شہید کے ساتھ میری قریبی دوستی اور تعلق تھا اور میں آج بھی لبنان میں فرنٹ لائنز پر موجود جنگجوؤں سے رابطے میں ہوں۔
قالیباف نے واضح کیا کہ امریکا ایران سے اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام نیز ’’مزاحمتی محاذ‘‘ اور آبنائے ہرمز سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن ایران کی جانب سے مزاحمت اور لبنان کو امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شق میں شامل کیا گیا تھا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/mf4zFc9