کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار پر ڈاکٹر آکاش کے قتل کے خلاف لواحقین کی جانب سے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب مظاہرین سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد روانہ ہوگئے جبکہ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا بھی مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچ گئے ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ آکاش قتل کیس میں پیش رفت ہوئی ہے، مقتول کے والد سے تعزیت کی افسوسناک واقعے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں، مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ آکاش کے قاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا جبکہ احتجاج کی وجہ سے اطراف کی سڑکوں ٹریفک جام ہوگیا ہے۔
بعدازاں ورثا نے احتجاج ختم کرتے ہوئے لاش سرد خانے منتقل کردی جس کے بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔
یہ پڑھیں: کراچی میں ڈاکٹر آکاش کی کار پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئی
اس سے قبل ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے بتایا کہ فائرنگ کے وقت ان کے ساتھ والد اور کزن بھی ساتھ تھے، بینک کے باہر سرعام فائرنگ کرکے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کیا گیا ہے، ہمارا تعلق کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعتکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی مخدود صورتحال میں ہمارے بچوں کو قتل کیا جارہا ہے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور اعلیٰ حکام ان واقعات کا فوری نوٹس لیں۔
مقتول کے چچا نے کہا کہ ایسے سڑکوں پر قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو کون یہاں رہنا پسند کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر آکاش جناح اسپتال میں 2 سال سے ڈیوٹی کررہے تھے، ان کی عمر 28 سال تھی اور وہ غیر شادی شدہ تھے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/pqrtFIa