انٹرنیشنل کرکٹ کے دو بڑے نام ایک ہی سیریز کے دوران کھیل کو الوداع کہہ گئے۔ انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر بین اسٹوکس نےنیوزی لیند کےخلاف سیریز کےتیسرے اور فیصلہ کن ناٹنگھم ٹیسٹ کے دوران کرکٹ کو خیرباد کہا۔
اسی سیریز سے پہلے لارڈز ٹیسٹ کے بعد سابق نیوزی لینڈ کےکپتان کین ولیمسن نے بھی بین الاقوامی کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا۔
کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ معمول کی بات مگر ایک کھلاڑی کیلیے یہ مشکل مرحلہ ہوتا ہےجب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اب میری باری مکمل ہوئی اور یہ جگہ اب کسی اور کے لیے چھوڑ دی جائے۔ اب آتے ہیں میرے گزشتہ بلاگ (پاکستانی کرکٹ اور ”تین چوتھائی صدی” کا قصّہ) کی جانب جہاں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ اور اب بھارت میں بھی کھلاڑی اس قدر پروفیشنل ہوگئے ہیں کہ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کارکردگی میں کمی آرہی ہے یا وہ ٹیم پر بوجھ بن رہے ہیں تو شکریہ کہہ کر دوسروں کے لیے موقع چھوڑ جاتے ہیں۔ وہیں دیگر ملکوں کے کھلاڑی اس معاملے میں ہچکچاہٹ یا فیصلے میں تاخیر کرتے نظر آتے ہیں۔
بین اسٹوکس اورکین ولیم سن کے فیصلوں کی بات کی جائےتواس میں پروفینشنل ازم نظرآتا ہےتاہم ایک عام کرکٹ فین کو حیرانی ہوتی ہےکہ بس کچھ میچ پہلےتک دونوں ہی ٹیم کااہم ستون تھے اور ان کے بغیر ٹیم خصوصا ٹیسٹ ٹیم مکمل نہیں ہوتی تھی اور ان کی جانب سےرٹائرمنٹ کافیصلہ جذباتی ہے۔ لیکن زاویے کو وسیع کیا جائے تو اس میں خود احتسابی نظر آتی ہے۔
اسٹوکس اور ولیمسن دونوں کی کچھ ماہ پہلے کی کارکردگی دیکھی جائے تو اس میں گراوٹ آرہی تھی اور وہ اس معیار پر نہیں تھی جس طرح ان سےتوقع کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ فوری ردعمل نہیں بلکہ کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد ک انتیجہ ہے۔
اگر بات کارکردگی کی جائے تو اسٹوکس انگلش کرکٹ کے دو بڑے آل راؤنڈرز میں سے ایک ہیں۔ دو ہزار سولہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں ویسٹ اندیز کے کارلوس بریتھویٹ سے چار لگاتار چھکے کھانے کے بعدکوئی اور کھلاڑی ہوتا تو ٹوٹ جاتا مگر اسٹوکس مضبوط اعصاب اور بہترین کھیل پیش کرنے کا ماہر ہے۔ اس ناکامی پر ہارنے کے بجائے کارکردگی سے جواب دیا۔ آسٹریلیا کے خلاف2019 ایشز سیریز کے دوران لیڈز ٹیسٹ کی یادگار اننگز کون بھول سکتا ہے۔ پھر اس شیر دل کھلاڑی نے وہ کر دکھایا جو ماضی کا کوئی بہترین انگلش کھلاڑی نہ کرسکا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف 2019 ورلڈکپ فائنل میں یادگار کارکردگی پیش کرکے کھیل کے کرکٹ کے بانی انگلینڈ کو پہلی بار ورلڈ چیمپیئن بنوانے میں سب سے اہم حصہ ڈالا۔
Latest Sports News and Breaking News from ARY News
ون ڈے اورٹیسٹ کرکٹ ہی نہیں اسٹوکس نے2016 ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی شکست کا داغ بھی عمدہ کارکردگی سے دھویا۔ 2022 کے فائنل میں بہترین بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان کے ہاتھوں سے یقینی فتح چھین لی۔ جب کپتان بنا تو ٹیسٹ کرکٹ کو ایک منفرد پہچان دی۔ سابق کیوی کپتان کوچ میک کلم کے ساتھ مل کر جارحانہ انداز بیس بال کی بنیاد رکھی۔
دوسری جانب میچ ونر سابق کیوی کپتان کین ولیم سن بھی بین سے کسی طور پیچھے نہیں دکھائی دیتا۔ کیوی ٹیم کی بیٹنگ لائن کا ایسا رکن جس نے ہر کنڈیشن میں اپنی ٹیم کو سنبھالا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کی تاریخ کےدو بڑے بلے بازوں میں اس کانام بغیر کسی ہچکچاہٹ کے لیا جاتا ہے۔ جینٹل مین اور انتہائی دھیمے انداز کے طور پر کرکٹ کی دنیا میں پہچانے جانے کے ساتھ ساتھ کین کامیاب کپتان بھی ثابت ہوا۔ نیوزی لینڈ نے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا ٹائٹل بھی ولیمسن کی قیادت میں ہی جیتا۔
سینا ممالک سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز عمومی طور پر کھیل سے راہ جدا کرتے وقت مطمئن اور اپنے فیصلوں میں اٹل دکھائی دیتے ہیں۔ یہی کچھ ان دو سپر اسٹارز نےبھی کیا۔ اگر فٹنس اور عمر دیکھی جائے تو ابھی بھی وہ کم از کم ایک سال مزید اپنے ملک کی نمائندگی کرسکتے تھے۔ اسٹوکس اور ولیم سن کو اچھے انداز اور الفاظ میں الوداع کہا گیا بدقسمتی یہ رہی کہ دونوں فتح کے ساتھ کرکٹ سے رخصت نہ ہوسکے ہوئے لیکن ان کی کمی ضرور محسوس کی جائے گی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/bCRB0Pt