کراچی (14 دسمبر 2025): گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے معاملے پر وفاقی حکومت نے مذاکرات کیلیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے رابطہ کیا ہے، حکومت نے مذاکرات کیلیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان تمام امور طے پاگئے
ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ حکومتی کمیٹی میں سیکریٹری مواصلات، بلال کیانی، آئی جی موٹروے اور ممبر کسٹمز شامل ہوں گے، حکومت سے زوم پر مذاکرات کا پہلہ دور کل ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہماری 13 رہنماؤں کی کیمٹی کل شام 4 بجے وفاقی کمیٹی سے میٹنگ کرئے گی، ہماری پرامن ہڑتال جاری ہے اور مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔
دوسری جانب، سیکریٹری گڈز کیرئر ایسوسی ایشن ندیم آرائین نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے گڈز ٹرانسپورٹرز کو مذاکرات کی دعوت دے دی، گڈز ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کیلیے وفاقی وزیر علیم خان کی صدارت میں تشکیل دی گئی۔
ٹرانسپورٹرز کے مطالبات
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کر دیے جو درج ذیل ہیں:
- گاڑی کو 45 من وزن اور 22 وبیلر گاڑیوں کو اضافی وزن دیا جائے اور قانون میں ترمیم کی جائے
- ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ 2024/(1)SRO1619 کو فوری واپس لیا جائے
- موٹروے پولیس کی ایکسل لوڈ کے نام پر ناجائز جرمانے اور ایف آئی آر کے اندارج اور رشوت خوری کو فوری طور پر ختم کیا جائے
- موٹروے پولیس کی جانب سے پورے پاکستان میں کیمپ لگا کر ڈرائیوروں کو HTV.LTV لائسنس جاری کے جائیں
- نیشنل ہائی وے اتھارٹی پاکستان بھر میں ناجائز تعمیر ہونے والے تمام ٹول پلازوں کو ختم کیا جائے
- این ایچ اے کے گزشتہ 1 سال میں فیسوں میں کیے جانے والے اضافے کو واپس لیا جائے
- کراچی کی بندرگاہوں پر SAPT,KGTL اور KICT پر فوری طور پر گاڑیوں کیلیے پارکنگ ایریا الاٹ کیا جائے
- جناح برج سے لے کر پورے پورٹ ایریا میں ٹریک جام کا مسئلہ حل کیا جائے
- نادرن بائی پاس کو 4 لائین تک توسیع دی جائے اور ڈکیتیوں سے مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے
- ٹرک سٹی پورے پنجاب میں تمام بڑے شہروں کیلیے ٹرک اسٹینڈ الاٹ کیے جائیں
- شہری آبادیوں سے تمام ٹرانسپورٹرز ایک جگہ منتقل ہو جائیں جس سے شہریوں کو بھی ہیوی ٹریفک سے نجات ملے
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/kVnqmJu