دنیا بھر سے کروڑ پتی دبئی کیوں منتقل ہو رہے ہیں؟

یو اے ای (10 نومبر 2025): دنیا بھر کے کروڑ پتی افراد کی بڑی تعداد تیزی سے دبئی منتقل ہو رہی ہے ان میں بڑی تعداد برطانوی دولتمند افراد کی بھی ہے۔

ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق موجودہ دور میں یو اے ای دنیا بھر کے دولت مندوں کے لیے جنت بنا ہوا ہے اور حالیہ چند برسوں میں دنیا بھر ہزاروں کی تعداد میں کروڑ پتی افراد کی تعداد دبئی اور ابوظہبی منتقل ہوئے ہیں۔ تاہم رواں برس 2025 میں ان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دنیا بھر کے کروڑ پتیوں کی یو اے ای منتقلی کی وجہ یہاں کی ٹیکس دوست پالیسیاں، معاشی استحکام اور عالمی معیار کے طرز زندگی کے ساتھ عالمی سرمایہ کاروں کو کاروباری مواقع فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔

تازہ ترین ہینلے اینڈ پارٹنرز ویلتھ مائیگریشن رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات بڑی اقتصادی طاقتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نئے کروڑ پتیوں کی خالص آمد کے لحاظ سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر آنے کے لیے تیار ہے۔

دنیا بھر سے امیر ترین افراد کی یو اے ای منتقلی کے باعث یہاں منتقل ہونے والے اثاثوں کی مالیت 63 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو متحدہ عرب امارات کو سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ جیسے روایتی دولتمند ممالک سے اوپر درجہ دلا سکتا ہے۔

ہینلے اینڈ پارٹنرز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر سے 9800 کروڑ پتی افراد کے یو اے ای منتقل ہونے کی توقع ہے۔

سخت مالیاتی ضوابط اور نئی ٹیکس پالیسیوں کی وجہ سے بہت سے ممالک میں اعلیٰ مالیت کے حامل افراد کی نمایاں تعداد سے محروم ہونے کی توقع ہے۔

2025 میں دنیا بھر کے امیر ترین افراد کے لیے یو اے ای سب سے پرکشش ملک بننے کی اہم وجوہات یہ بتائی جا رہی ہیں۔

1. پرکشش اور قریب زیرو ٹیکس سسٹم

متحدہ عرب امارات دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو ذاتی انکم ٹیکس یا کیپٹل گین ٹیکس نہیں لگاتا ہے۔

تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے، یہ ٹیکس کے لیے ایک اہم حصہ کھوئے بغیر منافع کو برقرار رکھنے اور دولت بڑھانے کی زیادہ صلاحیت میں ترجمہ کرتا ہے۔

2. طویل مدتی رہائش اور گولڈن ویزا پروگرام

متحدہ عرب امارات نے دنیا کے سب سے پرکشش رہائشی پروگراموں میں سے ایک متعارف کرایا ہے۔ گولڈن ویزا، جو سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، اور ہنر مند پیشہ ور افراد کو 10 سال تک کے لیے قابل تجدید رہائش فراہم کرتا ہے۔

یہ انہیں اپنی سرمایہ کاری کو زیادہ آسانی سے منظم کرنے، اپنے بچوں کے لیے اعلیٰ درجے کی تعلیم تک رسائی، اور ملک کے اندر ایک طویل مدتی مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔

3. عالمی معیار کا مالیاتی ڈھانچہ

متحدہ عرب امارات نہ صرف تجارت کا عالمی مرکز ہے بلکہ یہ خطے اور دنیا کے اہم ترین مالیاتی مراکز میں سے ایک ہے۔

4. اسٹریٹجک مقام اور سیاسی استحکام

متحدہ عرب امارات ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے عالمی کمپنیوں کے لیے ایک مثالی لاجسٹک اور تجارتی مرکز بناتا ہے۔

5. پرتعیش طرز زندگی اور عالمی معیار کا معیار زندگی

دولت مند افراد کے لیے متحدہ عرب امارات میں آرام دہ اور پرسکون بنیادی ڈھانچے اور جدید زندگی کے ساتھ سرمایہ کاری کے نادر مواقع میسر ہیں۔ اعلیٰ درجے کے بین الاقوامی اسکول، صحت کی جدید سہولیات، جدید تفریحی مقامات اس کو مزید پرکشش بناتے ہیں۔

برطانیہ میں رواں ماہ انکم ٹیکس کی شرح میں اضافےکا امکان ہے، جس کے سبب کروڑ پتی شخصیات میں دبئی منتقل ہونے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ٹیکس ریفارمز کے نفاذ کے بعد اپریل میں 691 برطانوی میلینئر یو اے ای منتقل ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 79 فیصد زیادہ ہے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/o4uiAeq
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad