کرد ملیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترکیہ سے جنگجوؤں کو واپس عراق بلا رہا ہے۔
کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے کہا ہے کہ وہ ترکیہ کے ساتھ امن عمل کے ایک حصے کے طور پر اپنی عسکری قوت کو ترکیہ سے شمالی عراق میں واپس لے رہی ہے جس سے چار دہائیوں سے مسلح تنازعات کا خاتمہ ہوا اور امن عمل کا آغاز ہوا۔
اس مسلح تصادم میں دسیوں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے۔
تقریب میں موجود اے ایف پی نیوز ایجنسی کے ایک صحافی کے مطابق کرد پی کے کے نے شمالی عراق کے قندیل کے علاقے میں اتوار کے روز پڑھے گئے ایک بیان میں کہا ، "ہم ترکیہ کے اندر اپنی تمام قوتوں کی واپسی پر عمل پیرا ہیں۔”
انہوں نے ایک تصویر جاری کی جس میں 25 جنگجو دکھائے گئے تھے ان میں آٹھ خواتین ہیں جو پہلے ہی ترکی سے وہاں سفر کرچکی ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) پارٹی کے ترجمان نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ پی کے کے کا اعلان "دہشت گردی سے پاک ترکیہ عمل” کے فریم ورک میں آتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک بار پھر شام کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرد جنگجوؤں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں شامی سرزمین میں دفن کر دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ترک صدر نے کہا کہ شامی حکومت کرد وائی پی جے ملیشیا کو ختم کر دے، کردجنگجوؤں کی شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائی پی جے دہشت گرد تنظیم ہے جو ہمارےاور کردوں کے درمیان تقسیم چاہتی ہے۔
ترک صدر کہہ چکے ہیں کہ داعش اور کرد دہشت گردوں کے صفائے کا وقت آگیا ہے دہشت گرد گروپ شام کی بقا کےلیےخطرہ ہیں۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/IQtPXhq