نیپال (2 اکتوبر 2025): نیپال بھی ہندو اکثریتی ملک ہے مگر وہاں لوگ مورتیوں کے ساتھ 2 سالی بچی کی پوجا بھی کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیپال میں ایک دو سالہ بچی آریاتارا شاکیہ کو ملک کی نئی زندہ دیوی ’کماری‘ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے اور اس کی پوجا شروع کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں گزشتہ روز دشین کے تہوار کے موقع پر تقریب ہوئی اور بچی کو گھر سے مندر تک خاندان کے افراد نے عقیدت کے ساتھ پہنچایا۔ اس دوران لوگوں نے اس بچی کے قدموں کو چوما اور پھول ونذرانے پیش کیے۔ آج سے یہ بچی صدر سمیت عقیدت مندوں کو مندر میں دعائیں دے گی۔

یہ بچی آئندہ کئی برس تک کھٹمنڈو میں واقع مندر میں قیام کرے گی اور لوگ اس کی پوجا کریں گے۔ جب کہ مندر سے سابقہ کمارى ترشنا شاکی کو پالکی کے ذریعہ وہاں سے روانہ کیا گیا، جو اب 11 سال کی ہوچکی ہے۔
بچی کے والد نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے دوران حمل خواب میں دیوی کو دیکھا تھا، تب سے یقین تھا کہ ان کی ہونے والی اولاد بیٹی اور خاص ہوگی۔
زندہ دیوی کے انتخاب کے لیے 2 سے 4 سال کی عمر تک کی بچیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ بچیاں چُنی جاتی ہیں، جن کی جلد، بال، آنکھیں اور دانت بے داغ ہوتے ہیں اور انہیں اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا۔
نیپال میں کماری کو ’’کنواری دیوی‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جس کو ہندو اور بدھ مت کے پیروکار پوجتے ہیں۔ کماری کو بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد عام انسان تصور کیا جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسری بچی کو دیوی منتخب کیا جاتا ہے۔ تاہم مختلف
توہمات کے باعث اکثر یہ تمام عمر کنواری ہی رہتی ہیں۔ حکومت سبکدوش کمارى کو ماہانہ وظیفہ بھی دیتی ہے۔
توہم پرستی کی انتہا، والدین نے علاج کیلئے بیٹے کو گنگا میں ڈبو ڈبو کر مار دیا
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/q9ibNV4