عالمی ادارہ صحت اور ایف ڈی اے جیسے ادارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فوڈ سپلیمنٹس دوا نہیں بلکہ صرف غذا کا متبادل ہیں لیکن ان کا استعمال مکمل تشخیص کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔
فوڈ سپلیمنٹس کا استعمال آج کل عام ہوتا جارہا ہے، وٹامنز اور منرلز سے لے کر پروٹین پاؤڈر، امینو ایسڈز، پروبائیوٹکس، مچھلی کے تیل اور مختلف ہربل مصنوعات تک، مارکیٹ میں صحت بہتر بنانے کے دعوے کے ساتھ متعدد اقسام کے سپلیمنٹس دستیاب ہیں، تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص کو صحت مند رہنے کے لیے ان سپلیمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے؟
ماہرینِ غذائیت کے مطابق بنیادی طور پر جسم کو درکار غذائی اجزا متوازن اور صحت بخش خوراک سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سبزیاں، پھل، ثابت اناج، دالیں، خشک میوہ جات، بیج اور پروٹین سے بھرپور غذائیں جسم کو مختلف ضروری وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں، اس لیے سپلیمنٹس کو عام خوراک کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔

فوڈ سپلیمنٹس کیا ہوتے ہیں؟
فوڈ سپلیمنٹس ایسی مصنوعات ہیں جن میں وٹامنز، منرلز، پروٹین، امینو ایسڈز، پروبائیوٹکس، مچھلی کا تیل یا بعض ہربل اجزا شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ مختلف شکلوں میں دستیاب ہوتے ہیں، جن میں گولیاں، کیپسول، پاؤڈر، گمیز اور مائع شامل ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد خوراک کے ذریعے حاصل ہونے والے غذائی اجزا میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔
کن لوگوں کو سپلیمنٹس کی ضرورت ہے؟
ہر فرد کے لیے سپلیمنٹ ضروری نہیں ہوتا، تاہم بعض حالات میں ان کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اگر کسی شخص کے جسم میں کسی مخصوص وٹامن یا منرل کی کمی ہو، خوراک کے ذریعے مطلوبہ غذائیت پوری نہ ہورہی ہو یا صحت کی کسی مخصوص صورتحال کے باعث اضافی غذائی اجزا درکار ہوں تو ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سپلیمنٹ تجویز کرسکتا ہے۔
ایسی صورت میں سب سے پہلے اپنی خوراک کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر غذائی کمی سنگین ہو یا صرف خوراک سے پوری نہ ہوسکے تو ماہرِ صحت کے مشورے سے مناسب سپلیمنٹ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کیا ہر سپلیمنٹ صحت کیلئے فائدہ مند ہے؟
ضروری نہیں۔ صرف اس بنیاد پر سپلیمنٹ استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مقبول ہے یا اس کی تشہیر صحت بخش مصنوعات کے طور پر کی جارہی ہے۔
بعض وٹامنز اور منرلز کی ضرورت سے زیادہ مقدار جسم کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ سپلیمنٹس دیگر ادویات کے اثرات میں مداخلت بھی کرسکتے ہیں۔
اسی لیے کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے اس کی ضرورت، مقدار اور ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں ڈاکٹر یا مستند ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔
صحت مند غذا کا متبادل نہیں
فوڈ سپلیمنٹس بعض افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں متوازن غذا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، صحت مند رہنے کے لیے بنیادی توجہ متنوع اور متوازن خوراک، مناسب طرزِ زندگی اور فرد کی مخصوص غذائی ضروریات پر ہونی چاہیے۔
سادہ اصول یہی ہے کہ پہلے متوازن غذا کو ترجیح دی جائے، غذائی کمی کی صورت میں ماہرِ صحت سے رجوع کیا جائے اور ضرورت ثابت ہونے پر ہی مناسب سپلیمنٹ استعمال کیا جائے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/YpFhWrb