سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کو وقت شروع ہوگیا ہے پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی حکمرانی کا تاج کس کے سر پر سجے گا اس کے لیے دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے دونوں ڈویژنز میں پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
کراچی سمیت دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں پولنگ کا وقت شروع ہونے کے بعد کئی پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کا باقاعدہ عمل شروع نہیں ہوچکا ہے۔ کہیں عملہ نہیں پہنچا ہے اور کہیں ووٹرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوسی نمبر9 ناظم آباد پولنگ اسٹیشن عبداللہ کالج میں پولنگ شروع نہ ہوسکی۔ ناظم آباد یوسی 9 کے پولنگ اسٹیشن پر پولنگ عملہ نہ پہنچنے پر بلیٹ باکسز کو پولیس کی نگرانی میں سیل کیا گیا ہے۔ سرجانی ٹاؤن ٹی ایس ایف اسکول میں بھی عملہ چارج نہ لے سکا ہے۔ رات گئے ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں کے تنازع پر آج ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
کراچی کے 7 اضلاع کی 240 کے قریب یوسیز اور 984 وارڈز میں ووٹر اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ اس کے لیے 4990 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 1496 انتہائی حساس ہیں۔
ووٹر کو الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ اپنا شناختی کارڈ لازمی ساتھ لے کر آئیں۔ زائد المیعاد شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالا جا سکے گا۔ الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کو پولنگ کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق پولیس کے 43 ہزار 605 سے زائد اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔ ایسٹ زون میں 17588 افسران و ملازمین تعینات کیے گئے ہیں۔ ضلع ایسٹ میں 6533 اہلکار اور ضلع ملیر میں 4837 اہلکار تعینات ہوں گے۔
ضلع کورنگی میں 6218 اہلکار اور ساؤتھ زون میں 11627 تعینات ہوں گے۔ ضلع ساؤتھ میں 2155 اہلکار اور ضلع سٹی میں 4558 اہلکار فرائض انجام دیں گے۔ ضلع کیماڑی میں 4914 اہلکار شامل ہیں، ویسٹ زون میں 14390 افسران و ملازمین تعینات کیے گئے ہیں۔ ضلع سینٹرل میں 9672 اہلکار اور ویسٹ میں 4718 اہلکار شامل ہیں۔
خبر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/o1LTEqI